Back to home
Raat Ke Sawal
Cinematic

Raat Ke Sawal

Ali ChannoAli Channo
0 likes1 plays3:05
Style: Emotional Urdu Ghazal fused with modern melodic rap, deep expressive male vocals, soulful harmonium, warm acoustic guitar, cinematic strings, subtle tabla, deep 808 bass, crisp hip-hop drums, poetic Urdu pronunciation, intimate low-register singing, rhythmic spoken rap verses, explosive emotional chorus, smooth transitions between ghazal and fast rap, atmospheric night-time mood, professional studio production, original melody, 90 BPM, powerful vocal dynamics, haunting outro.
Learn to sing thisKaraoke with live pitch — get a score on every lineSing →

PRO & Creator Features

Unlock advanced AI features with Pro (Audio2Audio, Voice Clone, Photo Covers, LoRA) or Creator (Variations, Edit Sections, Stem Separation).

Audio2Audio Remix

Pro & Creator

Voice Clone

Pro & Creator

Create Variations

Creator only

Edit Sections

Creator only

Stem Separation

Creator only

Lyrics

▶ Play this song to follow along.

[Verse 1]

ترے بعد یہ دل کہیں لگتا نہیں

تیرے سوا کوئی اپنا لگتا نہیں

میں نے ہر شخص میں تجھ کو ڈھونڈا

کوئی چہرہ بھی تیرا لگتا نہیں

تو جو بچھڑا تو یہ احساس ہوا

کوئی اپنا بھی اپنا لگتا نہیں

میری خاموشیوں کو پڑھ لیتا تھا جو

اب وہ شخص مجھے سنتا نہیں

[Verse 2]

سن!

میں نے لفظوں میں چھپایا ہے درد اپنا

لوگ کہتے ہیں کہ بدلا ہے رنگ اپنا

تیرے وعدوں پہ یقین اتنا کیا تھا

بھول بیٹھا تھا میں وجود اپنا

رات جاگوں تو تیری یاد ستائے

دن نکلے تو تیرا خیال آئے

میں وہ شاعر ہوں جو غم لکھتا رہا

اور زمانہ میرے اشعار گنگنائے

تجھے چاہا تھا، یہ میری خطا نہیں

تیرا ہونا بھی کوئی سزا نہیں

تو اگر خوش ہے کسی اور کے ساتھ

میری چاہت میں کوئی کمی نہیں

[Chorus]

تمہیں بھولنا ممکن نہیں

یہ دل اب کسی کا نہیں

تری یاد کے جو چراغ ہیں

انہیں بجھانا ممکن نہیں

تو میرا تھا یا نہیں تھا کبھی

یہ سوال اب بھی باقی ہے

تجھے چاہ کر بھی اے بے خبر

تجھے پانا ممکن نہیں

[Verse 3]

اب قلم اٹھا تو کہانی بدل گئی

میری آنکھوں کی روانی بدل گئی

جس کو سمجھا تھا زندگی اپنی

اس کے جانے سے جوانی بدل گئی

میں نے سیکھا ہے اکیلے چلنا

اپنے زخموں کو ہنسی میں ڈھلنا

اب محبت بھی کروں گا سوچ کر

میں نے سیکھا ہے خود کو سنبھلنا

نہ کوئی شکوہ، نہ کوئی سوال

وقت نے کر دیا سب کچھ بے مثال

تو جہاں بھی رہے خوش رہے ہمیشہ

میری غزل میں رہے گا تیرا خیال

[Outro]

کبھی فرصت ملے تو یاد کرنا

میرے لفظوں کو آباد کرنا

میں نہ ملوں گا تجھے زندگی میں

میری غزلوں میں مجھے تلاش کرنا

تیری خوشیوں کی دعا کرتا ہوں

آج بھی تجھ سے وفا کرتا ہوں

تو بھلے بھول جائے مجھے

میں تیری یاد میں لکھا کرتا ہوں۔۔۔ :::

Comments(0)

Sign in to join the conversation.

No comments yet. Be the first to comment!