Back to home
Shattered Keys and Silence
Emotional

Shattered Keys and Silence

m
mkhan
0 likes1 plays5:10
Style: male vocal, piano, sad, aggressive
Learn to sing thisKaraoke with live pitch — get a score on every lineSing →

PRO & Creator Features

Unlock advanced AI features with Pro (Audio2Audio, Voice Clone, Photo Covers, LoRA) or Creator (Variations, Edit Sections, Stem Separation).

Audio2Audio Remix

Pro & Creator

Voice Clone

Pro & Creator

Create Variations

Creator only

Edit Sections

Creator only

Stem Separation

Creator only

Lyrics

▶ Play this song to follow along.

بے وفا

[Verse 1]

میں نے تجھ کو اپنا سمجھا،

تو نے مجھ کو خواب سمجھا،

میں نے تجھ پہ جان لٹائی،

تو نے مجھ کو عام سمجھا۔

راتوں کو میں جاگتا رہا،

تیرا نام پکارتا رہا،

تو کسی اور کی ہو گئی،

میں خود سے ہی ہارتا رہا۔

[Chorus]

تو بے وفا نکلی، میں برباد ہو گیا،

تیرا عشق تھا، جو میرا فریاد ہو گیا۔

جس دل میں صرف تیرا نام لکھا تھا،

وہی دل آج درد کا شہر بن گیا۔

تو ہنس کے چلی گئی، میں رو کے رہ گیا،

تیرا کیا گیا وعدہ بھی جھوٹا ہی رہ گیا،

میں آج بھی تجھے اپنا سمجھتا ہوں،

اور تو کسی اور کی ہو کے رہ گیا۔

[Verse 2]

کہتی تھی کبھی چھوڑوں گی نہ،

میرا ہاتھ کبھی توڑوں گی نہ،

پھر کیوں میری آنکھوں کے سامنے،

کسی اور کا ہاتھ تھام لیا؟

میں نے تیری ہر بات مانی،

اپنی خوشیاں تجھ پہ واریں،

تو نے میری وفا کا بدلہ،

خاموشی اور جدائی سے دیا۔

[Pre]

کیا کمی تھی میری محبت میں؟

کیا کمی تھی میری وفاؤں میں؟

میں تو آخری سانس تک تیرا تھا،

تو کیوں بدل گئی چند باتوں میں؟

[Chorus]

تو بے وفا نکلی، میں برباد ہو گیا،

تیرا عشق تھا، جو میرا فریاد ہو گیا۔

جس دل میں صرف تیرا نام لکھا تھا،

وہی دل آج درد کا شہر بن گیا۔

[Bridge]

اگر محبت جرم تھی میری،

تو سزا اتنی کیوں ملی؟

میں نے تجھے خدا تو نہیں مانا،

پھر میری دنیا تجھ سے کیوں بنی؟

اب آئینے سے پوچھتا ہوں،

وہ شخص کہاں گیا جو ہنستا تھا؟

تیری یادوں کے ملبے تلے،

میرا اپنا وجود دفن پڑا ہے۔

[Verse 3]

کبھی میری آواز سن کر،

تیرے چہرے پہ ہنسی آتی تھی،

آج میرا نام سن کر شاید،

تجھے کوئی اور یاد آتی ہے۔

میں تیری تصویریں دیکھ کر،

رات بھر آنسو پیتا ہوں،

تو شاید سو جاتی ہے سکون سے،

میں تیری یاد میں مرتا ہوں۔

[Final Chorus]

تو بے وفا نکلی، مگر میں وفادار رہا،

ٹوٹ کر بھی تیرا طلبگار رہا۔

تو نے محبت کو کھیل سمجھا،

میں اسے آخری سانس تک پیار سمجھتا رہا۔

اب نہ کوئی وعدہ چاہیے،

نہ تیرا لوٹ کر آنا چاہیے،

بس اتنی دعا ہے میری،

تو خوش رہے…

چاہے میرے بغیر رہے۔

[Outro]

میں تجھے بھول جاؤں گا…

یہ وعدہ آج خود سے کیا ہے،

مگر جو آنسو آج بہہ رہے ہیں…

یہ اس دل کی آخری گواہی ہیں۔

تو میری نہ ہو سکی…

مگر میری محبت جھوٹی نہ تھی۔

تو بے وفا تھی…

مگر میں بے وفا نہ تھا۔

Comments(0)

Sign in to join the conversation.

No comments yet. Be the first to comment!