Back to home
Rooh Ki Pukar
Devotional

Rooh Ki Pukar

Nadeem BalochNadeem Baloch
0 likes1 plays7:55
Style: Deep emotional Sufi ghazal, 120 BPM, soulful male vocal, expressive and powerful singing, harmonium-led melody, soft tabla and dholak rhythm, gentle acoustic strings, subtle flute fills, gradual musical build-up, passionate alaap between verses, spiritual atmosphere, emotional highs and lows, traditional South Asian mehfil feeling, warm reverb, cinematic sound, clear vocals, original melody, no imitation of any specific singer.

PRO & Creator Features

Unlock advanced AI features with Pro (Audio2Audio, Voice Clone, Photo Covers, LoRA) or Creator (Variations, Edit Sections, Stem Separation).

Audio2Audio Remix

Pro & Creator

Voice Clone

Pro & Creator

Create Variations

Creator only

Edit Sections

Creator only

Stem Separation

Creator only

Lyrics

▶ Play this song to follow along.

دلِ بےتاب کو اک بار قرار آ جائے

تیری آواز جو آئے تو بہار آ جائے

میں نے ہر سمت تری یاد کا چرچا دیکھا

جس طرف دیکھوں ترا عکس نظر آ جائے

رات خاموش ہے، تاروں میں بھی نمی سی ہے

تو اگر نام پکارے تو نکھار آ جائے

میرے ہونٹوں پہ ترے نام کی خوشبو ٹھہری

میرے لفظوں میں محبت کا وقار آ جائے

میں ترے در کا سوالی ہوں، یہی کافی ہے

تیری چوکھٹ پہ اگر میرا شمار آ جائے

تو جو اک بار مجھے دیکھ کے مسکرا دے

میرے ویران سے دل میں بھی قرار آ جائے

درد اتنا ہے کہ الفاظ بھی خاموش ہوئے

تیری قربت ہو تو ہر درد کو پیار آ جائے

میں نے مانا کہ جدائی نے بہت توڑ دیا

تو ملے تو مری دنیا میں نکھار آ جائے

تیری آنکھوں میں جو دیکھا ہے وہ خوابوں میں کہاں

وہ حقیقت جو ملے تو مجھے اعتبار آ جائے

میرے سجدوں میں فقط ایک دعا رہتی ہے

تیرا نام آئے تو دل کو بھی قرار آ جائے

میں نے دنیا کی محبت کو بہت دور کیا

تیری چاہت جو ملے، دل کو قرار آ جائے

کوئی پوچھے کہ محبت میں ملا کیا مجھ کو

میں کہوں گا کہ مجھے خود سے فرار آ جائے

میری تنہائی میں جب تیرا تصور آئے

دل کی دیوار پہ جیسے کوئی پیار آ جائے

تو اگر پاس نہیں، یاد تو رہتی ہے تری

اسی یادوں سے مرے دل کو بہار آ جائے

میری سانسوں میں تری خوشبو بسی رہتی ہے

تیرا ذکر آئے تو لب پر بھی خمار آ جائے

میں نے چاہا ہے تجھے حد سے گزر کر جاناں

اب کوئی اور محبت میں کہاں پیار آئے

تیری رحمت کا اگر سایہ مرے سر پہ رہے

زندگی میں نہ کبھی کوئی غبار آئے

میں گنہگار سہی، پھر بھی ترا بندہ ہوں

تیری رحمت سے مرے دل کو نکھار آ جائے

دل کے صحرا میں محبت کی گھٹا چھا جائے

ایک قطرہ بھی گرے، روح میں بہار آ جائے

تیری دہلیز پہ بیٹھا ہوں کئی راتوں سے

کاش اک لمحہ تری دید کا یار آ جائے

میں نے ہر درد کو تیری ہی امانت سمجھا

تو سنبھالے تو مجھے پھر سے قرار آ جائے

میری آواز میں ٹوٹا ہوا دل بولے گا

تو سنے تو مرے اشکوں کو بھی پیار آ جائے

جس کو دنیا نے بھلا ڈالا، وہ تیرا ہو جائے

تیری نسبت سے اسے بھی تو وقار آ جائے

عشق ایسا ہو کہ ہر سانس عبادت بن جائے

نام تیرا ہو تو دل میں بھی نکھار آ جائے

میں نہ شاعر ہوں، نہ فنکار، فقط عاشق ہوں

دل سے نکلا ہوا ہر لفظ اثر دار آ جائے

تیری محفل میں جو بیٹھوں تو یہ خواہش ہے مری

میری خاموشی بھی اک سازِ پکار آ جائے

رات ڈھل جائے، زمانہ بھی گزر جائے مگر

تیری یادوں کا مرے دل پہ خمار آ جائے

تو مرے ساتھ نہ ہو پھر بھی شکایت کیا ہے

تیرا احساس رہے، اتنا ہی پیار آ جائے

میں نے مانگا نہ کبھی تاج، نہ دولت، نہ جہاں

بس ترے نام سے جینے کا اختیار آ جائے

دل کی دنیا میں ترے عشق کا چرچا ہو جائے

میری ہر دھڑکن کو تیرا ہی قرار آ جائے

آخرِ شب یہی خواہش ہے مرے مولا کی

جس کو تو چاہے، اسے عشق کا اقرار آ جائے

میں جو مٹ جاؤں تری یاد میں، غم کیسا ہے

نام تیرا رہے، دل کو نہ ملال آ جائے

تیری رحمت کا بھروسہ ہے مجھے اے جانِ وفا

ڈوبتا دل ہے، کوئی ہاتھ ابھار آ جائے

میں ترے عشق میں خاموش بھی رہ سکتا ہوں

تو پکارے تو مرے لب پہ پکار آ جائے

یہ غزل ختم کہاں ہوتی ہے تیرے ذکر پہ

نام تیرا ہو تو ہر لفظ میں بہار آ جائے

Comments(0)

Sign in to join the conversation.

No comments yet. Be the first to comment!